علامہ اقبال کا پسندیدہ پرندہ شاہین اس کی خصوصیات و صفات

Top Topic 101
By -

شاہین | Falcon | Eagle

علامہ اقبال کا پسندیدہ پرندہ شاہین اس کی خصوصیات و صفات

شاہین

شاہین کو انگلش میں "Falcon" اور "Eagle" کہتے ہیں۔ شاہین کے بارے میں ہے کہ یہ سب سے تیز ترین جھپٹنے والا پرندہ ہے، کیونکہ یہ جھپٹنے کے دوران 180 کلومیٹر فی گھنٹہ (112 میل فی گھنٹہ) کی رفتار تک پہنچ سکتا ہے۔ شاہین ہجرتی باز کی ایک قسم ہے جو بنیادی طور پر برصغیر میں پائی جاتی ہے پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال نے شاہین کو اپنی شاعری میں نوجوانوں کو شاہین کہ کر اس لفظ کو استعمال کیا ہے۔ پاک فضائیہ کے نشان پر بھی شاہین کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ شاہین کی نظر بہت تیز اور دور تک دیکھنے و سمجھنے والی ہوتی ہے. یہ بے خوف، نڈر و مضبوط پرندہ ہے۔ شاہین بہت بلندی پر پرواز کرتے ہیں۔ شاہین اکلوتا پرندہ ہے جو طوفانوں سے ڈرتا نہیں۔ شاہین مردہ کا گوشت نہیں کھاتا بلکہ اپنا شکار کرکے کھاتا ہے۔

شاہین کی خصوصیات

شاہین میں بہت سی ایسی خوبیاں ہیں جو اسے شاہین بناتی ہے. ورنہ گدھ کوے بھی گوشت کھانے والے شکاری پرندے ہیں... شاہین اپنا آشیانہ نہیں بناتا اگر انڈے بچے دینے ہوں تو اونچی چٹانوں کو اپنا مکسن بناتا ہے۔ وہ بلند پرواز نیں رہتاہے، اُس کی نگاہ تیز ہے، فقر و استغنا اُس کا طرۂ امتیاز ہے، شاہین توانائی، جہدِ مسلسل، حریت، تجسس، محنت، پہل کرنے کی خوبی اور خلوت پسندی کی خوبیوں سے مزین پرندہ ہے۔ اقبال اِسی شاہین کی خوبیاں مسلم نوجوان میں دیکھنے کے متمنی ہیں۔

اقبال اور شاہین

علامہ محمد اقبال کا شاہین صفت جوان مرد مومن ہے۔ یہ احساس آج بھی ہمارے ذہنوں میں دامن گیر ہے کہ وہ ... اقبال کا شاہین صفت مرد مومن بن کر ملک و قوم کی ترقی کے لیے کام کرسکتا ہے۔ خودی اور شاہین اقبال کے اہم موضوعات ہیں۔

یہ موضوعات آنے والے کل کو درخشاں راہیں ہموار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شاہیں پرندے کو کمال کی خوبیوں سے سرفراز کیا۔ شاہین خوددار اور غیرت مند پرندہ ہے، وہ کسی کے ہاتھ کا شکار کردہ کچھ نہیں کھاتا نہ ہی مردار کھاتا ہے۔

اقبال کا تصورِ شاہین

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ نے شاہین کو بطور رمز اور کنایہ تصور کرتے ہوئے مردِ کامل، مردِ حر، مردِ درویش اور فقیر کا درجہ دیا ہے۔

پرندوں کی دنیا کو درویش ہوں مَیں کہ شاہین بناتا نہیں آشیانہ

علامہ اقبال کو نوجوانوں سے بہت محبت تھی۔ ان کے نزدیک ملت کا یہ جوان شاہین صفت ہے۔ شاہین علامہ موصوف کا محبوب ترین پرندہ ہے جس میں وہ ایک تیز، پھرتیلے اور فضاؤں میں اڑتے نوجوان کی تصویر دیکھتے ہیں۔

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

شاہین اور جذبۂ عمل

اقبالؔ کا شاہین محض ایک پرندہ ہی نہیں بلکہ جسدِ زندگانی میں یہ حرکت و عمل کا ایک پرجوش مجسم، روحِ انقلاب، آزادی، خودداری کا پیامبر بھی ہے۔

جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانہ

شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا پر دم ہے اگر تو، تو نہیں خطرۂ افتاد

شاہین کی غذائیت اور رہائش

شاہین کے انڈے اور بچے فطرت کی appropriations کے مطابق ہوتے ہیں۔ ان کے والدین انہیں شکار اور پرواز کی تربیت دیتے ہیں۔ ان کے انڈے کا رنگ سفید ہوتا ہے جس پر بھورے یا سرخ دھبے ہو سکتے ہیں۔

شاہین کا بنیادی کھانا دوسرے پرندے ہوتے ہیں، جنہیں وہ اپنی تیز رفتاری سے پکڑتے ہیں۔ مردار نہیں کھاتے۔

انسان اور شاہین کی صفات

شاہین لیکن انسانوں کا آئیڈیل پرندہ ہے کیونکہ یہ اوصاف و مزاج کی قدر کرتا ہے۔ ہم اگر علم سے اپنی نظر دور رس کر لیں، سوچ بلند کر لیں، ذمہ داری خود لیں، مشکلات کا سامنا کریں تو ہم میں وہ اوصاف پیدا ہو جاتے ہیں جو انسان کو ممتاز کرتے ہیں۔

#buttons=(Ok, Go it!) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Ok, Go it!