چاپلوسی کے نقصانات | خوشامد کی بیماری، معاشرتی تباہی اور اسلامی رہنمائی

Top Topic 101
By -

 چاپلوسی ایک صالح معاشرے میں زہر قاتل ہے  چاپلوس لوگ حقیقت میں کمزور کردار کے مالک ہوتے ہیں یہ اپنے زاتی مفاد کی خاطر دوسروں کی جھوٹی تعریف کرتے ہیں چاہے دل میں ان کے لیے عزت نہ رکھتے ہو ایسے لوگ وقتی فائدے تو حاصل کر لیتے ہیں مگر اصل وقار اور عزت سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں

چاپلوسی انسان کی شخصیت کو گرا دیتی ھے اور سچائی سے اس کا رشتہ توڑ دیتی ھے  اپنی اس غلط حرکت کی وجہ سے پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے 


چاپلوسی کے نقصانات | خوشامد کی بیماری، معاشرتی تباہی اور اسلامی رہنمائی

خوشامد کرنے کا مطلب ہے حد سے زیادہ تعریف کرنا یا چاپلوسی کرنا، جس میں کسی شخص کی ایسی خوبیاں منسوب کی جاتی ہیں جو اس میں موجود نہیں ہوتیں، تاکہ اسے خوش کیا جاسکے. یہ ایک قسم کی تعریف ہے جس کا مقصد کسی شخص کو متاثر کرنا یا اس کے سامنے جھکنا ہوتا ہے

کچھ لوگ اپنی جھوٹی تعریف سننا پسند کرتے ہیں ان لوگوں کو چاپلوس آدمیوں کی ضرورت ہوتی عملی کام وہ کر نہیں سکتے جس سے انکی معاشرے میں کچھ عزت وقار بنے پھر وہ اپنی دولت سرمایہ کا سہارا لیکر اپنے اردگرد چاپلوس آدمیوں کا ایک ٹولہ اکٹھا کر لیتے ہیں  وہ لالچی لوگ اٹھتے بیٹھتے پھر اس نکمے ادمی کے گن گاتے ہیں 

اسطرح جو لوگ مخلص ہوکر کام کرتے ہیں  ان کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں  کیونکہ تعریف پسند آدمی کی جب مخلص لوگ جھوٹی تعریف نہیں کرتے وہ ان کے مخالفت شروع کر دیتا ان پر الزام ترشی عزت ہر حملے کرنا شروع کر دیتا کچھ مخلص لوگ ایسے بدبخت لوگوں کی وجہ سے معاشرے میں اچھا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں  یہ جو معاشرے کو نقصان ہوا ان چولی چک خوشامدی لوگوں کی وجہ سے ہوا درویش ادمی جو اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے کام کرتا ہے وہ کھبی بھی ان فضول آدمیوں کی تعریف نہیں کرے گا 

عاشقوں کے امام نے ان درویش صفت لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا ہے 

کروں مدح اہل دوول رضا پڑے اس بلا میں میری بلا 

میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارہ نان نہیں 

الفاظ کے معنی

*مدح -- تعریف * دول -- دولت کی جمع اور اہل دول یعنی دولت والے * بلا -- مصیبت *گدا -- منگتا * کریم -- کرم کرنے والا (اللہ اور رسول) * پارہ -- ٹکڑا * ناں -- روٹی 

امام احمد رضا اس شعر میں کہتے ہیں میرا دین کوئی روٹی کا ٹکڑا ہے جس کی وجہ سے میں ان بیکار آدمیوں کی تعریف کرتا پھروں

اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے اپنی خامیوں کو چھپانے کے لیے کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے منہ پر کسی کی جھوٹی تعریف کرنا جو چیز جو ہنر جو فن جو قابلیت اس کے پاس نہیں یا تھوڑی بہت ہے تو اسے بڑا چھڑا کر بیان کرنا تلوے چاٹنا  ٹی پوشی کرنا ہوا بھرنا  جھوٹی واہ واہ کرنا اس کی باتوں میں فضول وزن بھرنا اس کے غلط باتوں کو درست کہنا اس  بے جا خوشامد کرنے کو چاپلوسی کہتے ہیں جس کے بڑے نقصانات ہیں‏"کسی شخص کی قابلیت سے زیادہ تعریف کرنا چاپلوسی، جبکہ قابلیت سے کم  حسد هے"خوشامَد یا چاپْلُوسی ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت کچھ لوگ حد سے زیادہ دوسرے لوگوں کی تعریف کرتے ہیں خوشامدی بندے  لوگو کی ایسی خوشنما صفات، عادات و اطوار، محاسن معاملات ایسے بیان کرتے ہیں یا تو کسی شخص میں فی الواقع موجود نہیں ہوتی ہیں یا اتنی ہوتی نہیں جتنی وہ بیان کر رہے ہوتے ہیں یہ کام کھبی میراثی کرتے تھے اب تو یہ مراض عام لوگوں کو بھی لگ گئ ہے وہ کہتے ہیں تعریف سن سن کر جو اپنی تعریف سننے کی عادی ہوچکے ہیں جب تک انکی تعریف نہ کی جائے وہ کام ہی نہیں کرتے چاپلوسی ایک لاعلاج بیماری ھے.

موجودہ دور کی سب سے خطرناک بیماریوں میں ایک خطر ناک بیماری چاپلوسی ہے اس دائرہ نما زندگی میں سارا کھیل ہی چاپلوسی اور منافقت کا ہے-عہد جدید میں کچھ لوگ تو چاپلوسی جیسے لفظ کی حدود کو پار کر جاتے ہیں کیونکہ وہ چاپلوسی کے ماہر ہوتے ہیں- ایک کسی کی وااہ وااہ کرنا اور کسی کام کے حوالے سے سراہنے میں بھی کوئی خالص سچائی موجود نہیں سوائے چاپلوسی کے اور اپنے آپ کو اُس انسان کے سامنے معتبر بنانے تک ہی محدود ہے- اللّه کے دربار میں نہ چاپلوسی چلتی ہے نہ شاعری نہ اقوال زری نہ کسی کی رنگ بازی اگر چلتی ھے تو صاف نیت ہے- نبی پاک ﷺنے فرمایا :

بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے-

چاپلوسی ہمارے معاشرے کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہی ہے بعض لوگ اس فن میں بہت ماہر ہوتے ہیں–اور یوں کہہ سکتے کہ شائد انہوں نے چاپلوسی سیکھنے کے لیے باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہو-معاشرے میں کچھ لوگ تو بھانپ جاتے ہیں کہ کون کس سے مخلص طور پر مخاطب ہے اور کون چاپلوسی سے مخاطب ہے-چاپلوسی سے کچھ حاصل تو نہیں ہونے والا دنیا وآخرت میں اس بات کا لوگوں کو اندازہ پھر بھی اس میں مبتلا نظر آتے-چاپلوسی کا ایک ہی مقصد ہے کسی کے سامنے اپنے آپ کو مقبول بنانا- میرے مطابق دنیا میں دوسری بیماریوں کا علاج ممکن ہے لیکن چاپلوسی کا علاج فی الحال متعارف نہیں ہوا – لہذا ضرورت سے زیادہ چاپلوسی سے پرہیز کیجیے – اس سے سوائے اپنے نامہ اعمال خراب کرنے کے اور کچھ نہیں ملنے والا ہے ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ دوسروں کی چاپلوسی کرنا اور  جس کی تعریف کرنا داد دینا حق بنتا ہے اس کی مخالفت کرنے کو بڑی بات سمجھتے ہیں.

مصطفائی معاشرے کی تشکیل کے لیے معاشرتی اعنوان پہ لکھا رہتا ہوں اس پوسٹ کو آگے شیئر کردیا کریں تاکہ کسی کی اصلاح یو جائے.

تحریر ملک محمد زمان کھوہاروی

#buttons=(Ok, Go it!) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Ok, Go it!