شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مولانا ابو الحسان میاں محمد عبداللہ(ثانی)صاحب سروری قادری رحمة الله عليه 1947ء میں محدثان دہلی کے شاگرد حضرت علامہ میاں محمد عبداللہ(اول) صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے ،مرکزی قدیمی جامع مسجد غوثیہ کے پیش امام صوفئ باصفا میاں محمد امین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے گھر پیدا ہوئے ابوالحسان میاں محمد عبداللہ صاحب سروری قادری رحمۃ اللہ علیہ کی روحانی نسبت شہباز عارفاں سلطان الاولیاء حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تھی
مذہبی گھرانہ سے تعلق کی بنیاد پر دینی علوم (درس نظامی)شیخ القرآن ابو الخیر حضرت علامہ الحافظ محمد ظہور احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کدھر شریف منڈی بہاوالدین میں اور دورہ حدیث محدث اعظم پاکستان کے تلمیذ خاص محدث کبیر علامہ غلام رسول رضوی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس فیصل آباد اور دورہ تفسیر القرآن استاذ الاساتذہ علامہ فیض احمد اویسی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بہاولپور میں حاصل کی فارغ التحصیل ہونے کے بعد 1971ء میں اپنے آبائی گاؤں کھوہار شریف میں دارالعلوم جامعہ صدیقیہ رضویہ کی بنیاد رکھی جہاں سے سینکڑوں حفاظ وعلماء فراغت کے بعد پاکستان اور دنیابھر کےمختلف ممالک میں خدمت دین میں کوشاں ہیں
میاں صاحب نےکھوہار میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فروغ کیلئے نمایاں کردار ادا کیا جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوس کا آغاز کیا اور گاوں میں بالخصوص نوجوانوں میں محبت دین کو اجاگر کیا
1988ءآپ کا وصال ہوا
اپ کا مزار مبارک جامعہ میں شمال مشرق کیطرف واقع ہے جہاں ہر سال ایک عظیم شان عرس مبارک کی محفل ہوتی ہے
جامعہ کی نگرانی وخدمت کے امور صاحبزادہ میاں محمد عمران سروری قادری سر انجام دے رہے ہیں جو علامہ محمد اقبال کی فکر کے پیرائے میں فرقہ واریت سے بالاتر گفتگو کیساتھ بسم اللہ جامع مسجد المصطفائی مرکز ڈھوک حافظ جی میں خطیب بھی ہیں
میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پر ملال کے بعد طویل عرصہ سےانکی زمےداریوں کو ان کے چھوٹے بھائی میاں عبد القیوم صاحب سروری قادری سر انجام دے رہے ہیں میاں صاحب کی وفات کے بعد فروغ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو دن رات فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اہلسنت کی تنظیموں کی سرپرستی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ میاں عبدالقیوم صاحب کو صحت کاملہ دے اللہ تعالیٰ سے دعا ہےکہ الله تعالیٰ میاں محمد عبداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے امین امین ۔۔۔تحریر ملک محمد زمان کھوہاروی

