ہار اور جیت کا فلسفہ: سکون، تعلقات اور جمہوریت کا سبق
تحریر: ملک محمد زمان کھوہاروی
تعارف
ایک ہی چیز کے لیے ضد کرنا، ایک ہی جگہ کھڑے رہنا اور وقت و توانائی ضائع کرتے رہنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔ بعض اوقات چھوڑ دینا ہی اصل حل ہوتا ہے۔ یہ اصول زندگی کے ان لمحات پر لاگو ہوتا ہے جب ہم تعلقات، خوابوں یا مقاصد کو زبردستی تھامے رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی چھوڑ دینا ذہنی سکون اور خوشحالی کے لیے بہترین حکمت عملی ثابت ہوتا ہے۔
ہار کو تسلیم کرنا: اصل جیت کی علامت
اگر کوئی چیز یا تعلق آپ کو تکلیف دے رہا ہے اور آپ کی توانائی ختم کر رہا ہے، تو اسے چھوڑ دینا خود پر مہربانی ہے۔ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے، رک جانا زوال ہے۔
مزا تو جب ہے کہ ہار کے بھی ہنستے رہو، ہمیشہ جیت ہی جانا کمال تھوڑی ہے — پروین شاکر
ہار کو قبول کرنا کمزوری نہیں بلکہ بڑے دل اور اعلیٰ ظرفی کی نشانی ہے۔ جو شخص جیتنے والے کو دل سے مبارک دیتا ہے وہ آئندہ وقت کے لیے خود کو تیار کرتا ہے۔
تعلقات اور خواب: چھوڑ دینا کیوں ضروری ہے؟
ہر جنگ لڑنا ضروری نہیں۔ بعض اوقات ہار مان لینا ہی اصل جیت ہوتی ہے۔ خواب اور رشتے جب بوجھ بن جائیں تو انہیں چھوڑ دینا آگے بڑھنے کی راہیں کھولتا ہے۔ آزادی کا مطلب خود کو نئی سمتوں کے لیے کھلا چھوڑ دینا بھی ہوتا ہے۔
قیادت اور ٹیم اسپرٹ
ایک سچا لیڈر ہار کر بھی اپنی ٹیم کا حوصلہ بلند رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔ اصل فخر اس بات پر ہونا چاہیے کہ ہم نے مخلص ہو کر اپنے امیدواران کی سپورٹ کی اور بہترین انتخاب کیا۔
انشااللہ، آئندہ مواقع ضرور آئیں گے اور جیت ہمارا مقدر ہوگی۔
جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ
اصل جمہوریت یہ ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کو دل سے تسلیم کیا جائے۔ ہار تسلیم کرنا اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔ ضد اور ہٹ دھرمی جمہوریت کو نقصان دیتی ہے۔ عوام کو وہی رہنما چاہیے جو ملک کی بہتری کے لیے بہتر فیصلے کرے۔
وقت ہی اصل منصف ہے جو بتاتا ہے کہ کس کی جیت ہے اور کس کی ہار۔
اندھی لولی لنگڑی جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے۔ ایک وقت ضرور آئے گا جب عوام باشعور ہو گی اور ووٹ اس کو دے گی جو پاکستان کی اصل جیت ثابت ہوگا۔
نتیجہ
ہار اور جیت صرف نتائج کا نام نہیں، یہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کا عمل ہے۔ کبھی کبھی ہار مان لینا ہی اصل جیت ہوتی ہے کیونکہ یہ ہمیں بہتر فیصلوں، نئی راہوں اور زیادہ پختہ سوچ کی طرف لے جاتی ہے۔

